قرآن اور بشری نظریا ت میں قانون سازی کی حیثیت پی ڈی ایف چھاپیے ای میل

ڈاکٹر سید احمد میر خلیلی (اسسٹنٹ پروفیسر  یزد یونیورسٹی )
مجیدمحمدزادہ(ایم ۔فل  علوم قرآن و حدیث )
خلاصہ
قانون کے مقاصد ، قوانین کے صحیح  وغلط ہونے کا معیار ،جواز کی اتھارٹی ، قانون کی حیثیت اورقانون ساز کے شرائط کا جائزہ لینا  ،یہ وہ مباحث ہیں جو بشریاتی علوم کے اس حصے میں  معرکۃ الآرا  اور پیچیدہ مسائل ہیں ۔
کسی بھی قانون  کا جواز اور اس کے معتبر ہونے کے بارے میں اہم نقطہ نظر  اس کا کسی  ایسے معتبر   شخص کی طرف سے   بنایا جانا ہے جو قانون سازی  کے تمام ضروری شرائط  کا حامل ہو ۔ ان شرائط میں اس کا انسان کی پوری طرح سے معرفت رکھنا ، اس کے نفع و نقصان سے واقفیت،ہرقسم کے ذاتی  مفاد اور   خود خواہی سے پر ہیز شامل ہے ۔
قرآن کریم کی نگاہ سے اگر کوئی قانون سازی کی ساری شرائط اور  پوری صلاحیت رکھتاہے تو وہ اللہ تعالی کی حکیم و علیم ذات ہے اسی بنا پر اسی کا بنایا ہوا قانون معتبر قرار پا سکتا ہے ۔
دین مبین اسلام میں  حاکمیت اور ولایت کا اصل حق اللہ تعالی کو ہے  جبکہ دوسرے درجے پر یہ حق ان  افراد کا ہے جنہیں اللہ تعالی نے منتخب کیا ہے اور انکی اطاعت کا حکم دیا ہے ۔ بنابریں قرآن کریم اور سنت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  اور اہلبیت علیہم السلام انسانی سعادت  تک رسائی کا بنیادی آئین اور کتاب زندگی ہے ۔     
پیش نظر تحریر میں جن عناوین کو زیر بحث لایا گیا ہے ان میں قانون اور قانون سازی کے اہداف و مقاصد ، قانون کا ماخذ اور اس کا معتبر ہونا ، قانون اور قانون سازی  کی شرائط شامل ہیں  ۔ اس کے علاوہ قانون سازی کے بارے  میں موجود مختلف نظریات کا بھی باہمی تقابل کیاگیا ہے ۔
بنیادی کلمات :قرآن ، قانون سازی ، بشری اور الہی قوانین ، قانون ساز کی شرائط اور اہداف ۔